بلال شیخ مشاہدات: 4657

اسلامی نظام تجارت کے بنیادی تصورات چھاپیے

بنیادی تصور حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’جو شخص خریدتا اور بیچتا (تاجر) ہے اُسے پانچ خصلتوں یعنی سود اور قسم کھانا، مال کا عیب چھپانا، بیچتے وقت تعریف کرنا اور خریدتے وقت عیب نکالنے سے دوری اختیار کرنا چاہیے، ورنہ نہ وہ ہرگز خریدے اور نہ بیچے۔‘‘

 


٭…اسلام کے پورے نظام حیات میں اِس بات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ کوئی ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے، جو فطرت سے بغاوت پر مبنی ہو،اِسی لیے جھوٹ، دھوکہ دہی، ملاوٹ، جھوٹی قسموں اورذخیرہ اندوزی وغیرہ کو منع کیا گیا ٭

اسلامی تعلیمات کی رُو سے جو شخص مسلمانوں کے بازار میں تجارتی کاروبار کرتا ہے اُس میں کچھ صفات و خصوصیات کا ہونا بہت ضروری ہے، یعنی اُس میں خرید و فروخت کی عقل موجود ہو اور وہ خرید و فروخت کے احکام کا علم رکھتا ہو۔ مذکورہ حدیث پاک سے اسلامی نظام معیشت کا یہ بنیادی اصول اخذ ہوتا ہے کہ مال کا حصول اور اُس کا خرچ کرنا اِس طور پر ہو کہ وہ افراد اور سوسائٹی کے لیے نفع بخش ہو، نقصان دہ نہ ہو۔ اسلام نے ایسی چیزوں کی تجارت سے منع کیا، جو لوگوں کے لیے نقصان دہ ہوں، جیسے: نشہ آور وغیرہ۔

اسی طرح خرچ کرنے میں بھی فرد اور سوسائٹی کے نفع و نقصان کو ملحوظ رکھا گیا ہے، فضول خرچی کی ممانعت اِس لیے کی گئی کہ اِس سے قومیں معاشی پسماندگی میں مبتلا ہوتی ہیں اور تعلیم و صحت اور دیگر معاشرتی مفید کاموں میں خرچ نہیں کر پاتی۔

اسلام میں نفع کا تصور
دین اسلام میں نفع کا بھی ایک جائز فطری تصور موجود ہے اور نفع خوری کی مد میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک غیر فطری چیز ہے، خود پیسوں سے پیسے پیدا نہیں ہو سکتے، جبکہ سود خور یہ فرض کر کے نفع یعنی سود وصول کرتا ہے کہ اُس کے پیسوں سے لامحالہ پیسوں میں اضافہ ہو گا، جبکہ اسلام میں انسانی محنت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔

فطری اصول یہ ہے کہ جب تک مال کے ساتھ انسانی محنت کی شمولیت نہ ہو، وہ منافع بخش نہیں ہوتا۔ اسی اصول پر اسلام میں نفع کمانے کے طریقوں میں مضاربت اور مزارعت شامل ہے۔ مضاربت میں ایک شخص کا سرمایہ ہوتا ہے اور دوسرے کی محنت اور مزارعت میں ایک شخص کی زمین ہوتی ہے اور دوسرے کی محنت، دونوں صورتوں میں یہ ضروری ہے کہ فریقین کی رضامندی ہو اور محنت کار کے نفع کا تناسب زیادہ رکھا جائے۔

اسلام کے پورے نظام حیات میں اِس بات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ کوئی ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے، جو فطرت سے بغاوت پر مبنی ہو۔اِسی لیے جھوٹ، دھوکہ دہی، ملاوٹ، جھوٹی قسمیں کھانے اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری وغیرہ کو منع کیا گیا، کیوں کہ اِن تمام صورتوں میں قیمتوں میں غیر فطری اتار چڑھاؤ پیدا کیا جاتا ہے۔

آج کل تشہیری وسائل اور اشتہارات کے ذریعے مصنوعی طور پر چیزوں کی طلب بڑھائی جاتی ہے، یہ بھی اسلام کی نظر میں پسندیدہ عمل نہیں ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تجارت میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے منع فرمایا ہے اور کسی چیز کے فائدہ کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور اُس کے نقصانات کے پہلو پر پردہ ڈالنا بھی جھوٹ میں داخل ہے، جس کا زبردست مظاہرہ موجودہ دور کے اشتہارات میں ہمیں نظر آتا ہے۔

اسلامی معاشی نظام کے مقاصد
اسلام کے معاشی نظام کے مقاصد میں غربت کا خاتمہ اور تمام انسانوں کو معاشی جد و جہد کے مساوی مواقع فراہم کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام سب کو حصول رزق کے مواقع عطا کرنے اور مثبت طور پر ایسی حکمت عملیاں بنانے کی تاکید کرتا ہے۔ جس سے غربت و افلاس ختم ہو اور انسانوں کو اُن کی بنیادی ضروریات لازماً حاصل ہوں اور اُن تمام ذرائع کو ممنوع قرار دیا ہے جو ظلم و زیادتی اور دوسروں کی حق تلفی پر مبنی ہوں۔

اسلام محض افلاس، غربت اور قلت وسائل کے ڈر سے انسان کشی کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن واضح تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’تم اپنی اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی اُن کو رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی، اُن کا مارنا بڑی خطا ہے۔‘‘ آج اسلامی تعلیمات سے نا آشنا بعض حلقے یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ معیشت و تجارت کے بارے میں اسلامی احکام پر عمل کرنے سے ہمارا سارا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا اور ہم معاشی اعتبار سے بہت پیچھے رہ جائیں گے، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حقیقی اور دیرپا ترقی کے لیے تجارتی سرگرمیوں کو مناسب اصول و ضوابط کے دائرے میں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اقتصادی ماہرین کے نزدیک ہمارے موجودہ معاشی و اقتصادی بحران کا بنیادی سبب معاشی سرگرمیوں کا اخلاقی قیود اور پابندیوں سے آزاد ہونا ہے۔ اگر یہ ناقدین اسلام کے تجارتی احکام کاحقیقت پسندی سے جائزہ لیں تو خود گواہی دیں گے کہ اسلامی طریقہ تجارت میں شتر بے مہار آزادی، ہوس، مفاد پرستی اور خود غرضی کو کنٹرول کرنے کا شاندار نظام اور طریقہ کار موجود ہے جو معاشرے کے اجتماعی مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور معاشی بے اعتدالیوں اور ناہمواریوں کو روکتا ہے۔

آج بھی ہم اپنی تجارت و معیشت کو اسلام کے ان جامع اصولوں کی روشنی میں صحت مند بنیادوں پر استوار کر کے ایک مضبوط و مستحکم معیشت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں! جب تک کسی معاشرے کے معاشی اور مالی معاملات مناسب اصول و ضوابط کے پابند نہ ہوں، اُس وقت تک اس معاشرہ کی منصفانہ تشکیل ممکن نہیں ہو سکتی۔

بلال شیخ

Comment As:

Comment (0)